سبک بار
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - جس کے سر پر کوئی بوجھ نہ ہو، ہلکا پھلکا، سبک دوش۔ فرقت میں ہو کیا حال اگر گریہ مضطر جان و دل حیران کو سبک بار بار نہ کر دے ( ١٩٥٠ء، کلیات حسرت موہانی، ٤٦ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'سبک' کے ساتھ فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'بار' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٧٢ء سے "دیوان فغان" میں مستعمل ملتا ہے۔